Pakistan must create 30m jobs over next decade, says World Bank president

05 Feb, 2026 660 Views Download


KARACHI: Pakistan must create up to 30 million jobs over the next decade to turn its youth bulge into an economic dividend or risk instability and outward migration, World Bank President Ajay Banga said.


Pakistan is entering the implementation phase of a 10-year Country Partnership Framework (CPF) deal agreed with the World Bank last year, while also working with the International Monetary Fund to stabilise its economy. But Islamabad is still facing mounting pressure to deliver sustained growth and jobs.


We're trying to move the bank group as a whole from the idea of projects to the idea of outcomes," Banga told Reuters in Karachi during a visit this week to Pakistan.


Job creation is the North Star.


'Generational challenge'
Pakistan needs to generate 2.5m to 3m jobs a year — roughly 25m to 30m over the next decade — as millions of young people come of age, Banga said. Failure to do so could fuel "illegal migration or domestic instability".


Banga said Pakistan's population dynamics mean employment creation will remain a binding constraint on growth over the long term, rather than a secondary policy goal.


"This is a generational challenge," he said.


The CPF commits around $4 billion a year in combined public and private financing from the World Bank Group, with roughly half expected to come from private-sector operations led by the International Finance Corporation.


Banga said the reliance on private capital reflects a country where the government has limited spending capacity and 90% of jobs are created in the private sector.


Pakistan's job strategy rests on three pillars, Banga said: investment in human and physical infrastructure, business-friendly regulatory reforms, and expanded access to financing and insurance, particularly for small firms and farmers that typically lack bank credit.


Infrastructure, primary healthcare, tourism, and small-scale agriculture were labour-intensive sectors with the greatest employment potential, he said, adding that farming alone could account for about one-third of the jobs Pakistan needs to create by 2050.


A growing pool of freelancers also highlighted Pakistan's appetite for entrepreneurship, but they need better access to capital, infrastructure and support to scale into job-creating businesses, he said.


The strain is readily visible in the exodus of skilled workers. Nearly 4,000 doctors emigrated from Pakistan in 2025, the highest annual outflow on record, according to Gallup Pakistan data based on Bureau of Emigration figures, underscoring concerns that weak job prospects and poor working conditions are pushing trained professionals abroad.


Power first
Fixing Pakistan's power sector is the most urgent near-term priority, Banga said, noting that losses and inefficiencies in electricity distribution have limited growth despite improvements in generation capacity.


Pakistan's power sector has long been plagued by growing debt from distribution losses, weak bill recovery, and delayed government subsidies, which has strained public finances and discouraged private investment. The debt has been a recurring focus of IMF-backed reform programmes, with successive governments struggling to contain losses while keeping energy affordable.


Banga said progress on privatisation and private-sector participation in electricity distribution would be critical to improving efficiency, reducing losses, and restoring the sector's financial viability.


He said rapid rooftop solar adoption, while easing energy costs for households and businesses, risks creating grid instability if distribution reforms are not accelerated.


"Electricity is fundamental to everything health, education, business, and jobs."


Climate by design
Banga said climate resilience should also be embedded into mainstream development spending rather than treated as a standalone agenda.


Pakistan is among the world's most climate-vulnerable countries, hit repeatedly by floods, heatwaves, and erratic monsoons.


Banga said climate-resilient investments should be integrated into infrastructure, housing, water management, and agriculture to support jobs while reducing long-term risks.


"The moment you start thinking about climate as separate from housing, food, or irrigation, you create a false debate. Just build resilience into what you're already doing."


Asked how Pakistan fits into the World Bank's global portfolio, Banga said he does not view the country through labels such as fragility or crisis, but as a long-term job-creation opportunity.


"We're in the business of hope," he said.


 


کراچی: ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا ہے کہ پاکستان کو آئندہ دس برسوں میں تقریباً 30 ملین (3 کروڑ) نئی نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی، تاکہ نوجوان آبادی کو معاشی فائدے میں بدلا جا سکے، ورنہ ملک کو عدم استحکام اور بیرونِ ملک ہجرت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


پاکستان گزشتہ سال ورلڈ بینک کے ساتھ طے پانے والے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) معاہدے کے نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے۔ تاہم اسلام آباد کو اب بھی پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کی فراہمی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔


“ہم بینک گروپ کو منصوبوں کے تصور سے نکال کر نتائج کے تصور کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں،” بنگا نے اس ہفتے پاکستان کے دورے کے دوران کراچی میں رائٹرز کو بتایا۔


“روزگار کی تخلیق ہماری رہنما سمت (نارتھ اسٹار) ہے۔”


‘نسلی (جنریشنل) چیلنج’


بنگا کے مطابق، پاکستان کو ہر سال 25 سے 30 لاکھ نئی نوکریاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے، یعنی آئندہ دہائی میں تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 3 کروڑ ملازمتیں، کیونکہ لاکھوں نوجوان عملی عمر میں داخل ہو رہے ہیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں “غیر قانونی ہجرت یا اندرونی عدم استحکام” پیدا ہو سکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کے رجحانات کے باعث روزگار کی تخلیق طویل مدت میں معاشی ترقی کی بنیادی رکاوٹ رہے گی، نہ کہ محض ثانوی پالیسی ہدف۔


“یہ ایک نسلی چیلنج ہے،” انہوں نے کہا۔


سی پی ایف کے تحت ورلڈ بینک گروپ کی جانب سے سرکاری و نجی شعبے کے مشترکہ طور پر سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی مالی معاونت متوقع ہے، جس میں سے تقریباً نصف نجی شعبے کی سرگرمیوں کے ذریعے آئے گی، جن کی قیادت انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کرے گی۔


بنگا نے کہا کہ نجی سرمایہ پر انحصار اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی اخراجاتی صلاحیت محدود ہے اور 90 فیصد نوکریاں نجی شعبہ پیدا کرتا ہے۔


بنگا کے مطابق، پاکستان کی روزگار حکمتِ عملی تین ستونوں پر مبنی ہے:




  1. انسانی اور جسمانی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری




  2. کاروبار دوست ضابطہ جاتی اصلاحات




  3. مالیات اور انشورنس تک رسائی میں توسیع، خاص طور پر چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کے لیے، جنہیں عموماً بینک قرض میسر نہیں ہوتا




انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر، بنیادی صحت، سیاحت، اور چھوٹے پیمانے کی زراعت ایسے محنت طلب شعبے ہیں جن میں روزگار کے سب سے زیادہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف زراعت ہی 2050 تک پاکستان کو درکار ملازمتوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ فراہم کر سکتی ہے۔


فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی تعداد پاکستان میں کاروباری صلاحیت اور جذبے کو ظاہر کرتی ہے، تاہم انہیں سرمائے، انفراسٹرکچر اور معاونت تک بہتر رسائی کی ضرورت ہے تاکہ وہ روزگار پیدا کرنے والے کاروباروں میں تبدیل ہو سکیں۔


ماہر افرادی قوت کی بیرونِ ملک ہجرت میں بھی یہ دباؤ واضح نظر آتا ہے۔ گیلپ پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق، جو بیورو آف ایمیگریشن کے ڈیٹا پر مبنی ہیں، 2025 میں تقریباً 4,000 ڈاکٹرز پاکستان سے ہجرت کر گئے، جو اب تک کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمزور روزگار کے مواقع اور ناقص کام کے حالات تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔


بجلی سب سے پہلے


بنگا نے کہا کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی اصلاح قلیل مدت میں سب سے اہم ترجیح ہے، کیونکہ بجلی کی تقسیم میں نقصانات اور نااہلی نے پیداواری صلاحیت میں بہتری کے باوجود معاشی ترقی کو محدود کر رکھا ہے۔


پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے تقسیم کے نقصانات، بلوں کی کم وصولی، اور حکومتی سبسڈیز میں تاخیر کے باعث بڑھتے ہوئے قرضوں کا شکار ہے، جس سے سرکاری مالیات پر دباؤ بڑھا اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ یہ مسئلہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری اصلاحاتی پروگراموں میں بار بار زیرِ بحث آتا رہا ہے۔


بنگا کے مطابق، بجلی کی تقسیم میں نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت میں پیش رفت، کارکردگی بہتر بنانے، نقصانات کم کرنے اور شعبے کی مالی حالت بحال کرنے کے لیے نہایت اہم ہوگی۔


انہوں نے کہا کہ اگرچہ چھتوں پر سولر پینلز کی تیزی سے تنصیب گھریلو اور کاروباری توانائی کے اخراجات کم کر رہی ہے، لیکن اگر تقسیم کے نظام میں اصلاحات تیز نہ کی گئیں تو یہ گرڈ کے عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔


“بجلی ہر چیز کی بنیاد ہے—صحت، تعلیم، کاروبار اور روزگار۔”


موسمیاتی حکمتِ عملی


بنگا نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت کو ترقیاتی اخراجات میں مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے، نہ کہ اسے ایک الگ ایجنڈا سمجھا جائے۔


پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں بار بار سیلاب، شدید گرمی اور بے ترتیب مون سون دیکھنے میں آتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ موسمیاتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری کو انفراسٹرکچر، رہائش، پانی کے انتظام اور زراعت میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور طویل مدتی خطرات کم کیے جا سکیں۔


“جس لمحے آپ موسمیات کو رہائش، خوراک یا آبپاشی سے الگ سوچنا شروع کرتے ہیں، آپ ایک غلط بحث کھڑی کر دیتے ہیں۔ جو کچھ کر رہے ہیں، اسی میں مضبوطی (ریزیلینس) شامل کر دیں۔”


جب ان سے پوچھا گیا کہ ورلڈ بینک کے عالمی پورٹ فولیو میں پاکستان کی کیا حیثیت ہے، تو بنگا نے کہا کہ وہ پاکستان کو کمزوری یا بحران جیسے لیبلز کے ذریعے نہیں دیکھتے، بلکہ اسے طویل مدتی روزگار کی تخلیق کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔


 

Was this news helpful?

241 people liked this

Comments