کویت:مشرق اور مغرب کے درمیان حسین سنگم کا نام علامہ اقبال ہے،پاکستان عوامی سوسائٹی کویت نے اپنی ریت اور روایت کو برقرار رکھتے ہوئے علامہ اقبال کے یوم پیدائش کی نسبت اور سلسلے میں ایک پروگرام یاد اقبال سے معنون منعقد کیا تاکہ دیار غیر میں فکر اقبال کو اجاگر کرتے ہوئے قلوب و اذہان کو سرشار کرتے ہوئے خودی کے طریق پہ مجاہد کی اذان بن کر چیتے کا جگر رکھتے ہوئے شاہین کی پرواز سے کربلا سے ہوتے ہوئے سوئے مدینہ ہوا جائے اور اپنے انفرادی اخلاق کو اللہ کے رنگ میں رنگتے ہوئے اس جوان نسل کو امہ کی اجتماعی لڑی میں پرو دیا جائے تاکہ وہ سماج انسانی فلاح و بہبود والا پھر میسر ا سکے۔

پروگرام میں پاکستان، انڈیا، ایران، ترکی اور کویت سے محققین و مقررین سے اکتساب ہونے کا موقع میسر آیا ،یاد اقبال کے پروگرام کو انتظامی حسن اور ترتیب وتزئین کے تقاضے جناب عطا الہی نے سرانجام دیئے۔ تلاوت۔ نعت کے بعد پاکستان و کویت کے ترانوں کے بعد استقبالیہ کلمات جناب انجنئیر آصف کمال صدر پاکستان عوامی سوسائٹی ترکی نے ادا کرتے ہوئے مقررین کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ہم بجا طور پہ فخر کرتے ہیں کہ ہم اقبال کےبدیس اور عہد سے متعلق ہیں۔

مجاہد چشتی نے وجد آفرین انداز میں۔۔۔۔لوح بھی تو قلم بھی تو۔۔۔ تیرا وجود الکتاب ۔۔۔۔۔ پڑھا اور سحر سماں باندھ دیا۔ اور سامعین جھومتے رہے۔

ترکی سے تعلق رکھنے والے ممتاز کالم نویس جناب یاسین شاہین صاحب نے کہا کہ اقبال کی ہمہ گیریت اور جامعیت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے بھی بڑھ کر انسانیت کا پیامبر ٹھرا ہے۔ اور کہا کہ اقبال مسلمانوں کو غلامی سے نکال کر حریت سے جرآت سے عظمت رفتہ سے بہرہ مند ہونے پہ مائل کرتا ہے۔۔ اور آپ ہم فکر اقبال کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔

ملک عابد نے پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیشہ ملی قدروں سے سرشار ہو کر معیاری پروگرام کرتے ہیں،میاں ساجد اقبال چیئرمین علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی نے اقبال کے فلسفہ خودی پہن گفتگو فرمائی اور اس روشنی میں کردار سازی پہ زور دیکھو حریت پہ منتج ہو۔

نامور محقق جناب قاضی شعیب نے اسرار خودی اور رموز بےخودی کی روشنی میں کہا کہ اقبال کیسے انسانی جبلت و عادات کو اعلی انفاس سے متصل کرتا ہو تعمیر کردار کی بات کرتا ہے۔ اوراعلی انسانی اوصاف سے متصف ہونے کی بات کرتا ہے۔

ایران سے تعلق رکھنے والے محقق و مقرر جناب پروفیسر ڈاکٹر حمید سدیری نے فکر اقبال کی مختلف جہتوں سے حوالے دیتے ہوئے اقبال لاہوری قلندر لاہوری کے ایران میں فلسفہ ما بعد از طبعیات پہ بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اقبال نے ایران میں ایک بہت بڑے پیمانے پہ اپنی اثر انگیزی پیدا کی ہے۔

بھارت سے جناب محترم وسیم سید نے بہت سیر حاصل گفت گو فرمائی۔ فکری احاطہ کرتے ہوئے کہا اقبال کے اشعار میں پُر مغز پیغام ہے۔

کراچی سے جناب ابصار احمد ( انچارج پی ٹی وی نغمات کراچی) نے اقبال اور قومیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا اقبال کی فکر قومیت، کسی جغرافیہ سے نہیں بلکہ ملت اسلامیہ سے حوالہ رکھتے ہیں اور بے شمار مقامات پر اسی فکر کو جلا بخشی۔

کویت سے تعلق رکھنے والے نامور صحافی جناب ترکی العنبائی نے بھی فکر اقبال پر گفت گو فرمائی۔

کویت کے نامور رپورٹر / صحافی جناب سالم الکندری نے علامہ اقبال کے ساتھ اپنا تعلق بیان فرمایا کہ ہم محمد اقبال سے اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی واقف ہیں پڑھتے ہیں اور اپنے من کو جلا بخشتے ہیں۔ اقبال کی فکر کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اقبال کا کلام پُر سوز انداز میں اُم کلثوم نے گا کر اہل عرب کو شناسا کیا ہے۔

پاکستان سے نامور مقرر جناب ڈاکٹر عارف صدیقی صاحب نے اپنے خطبہ میں کلام اقبال کی اثر انگیزی پر بات کی کہ یہ آج بھی ہمیں راہ عمل بتاتا ہے۔

کلیدی خطبہ صدارت جناب پروفیسر اعجاز الحق صاحب صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی نے پیش کیا کہ میں پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہر سال بہترین اعلی معیار کے پروگرام کا انعقاد پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ جیسے یہ دیار غیر میں وطن کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں اور رکھتے ہیں۔ اقبال اور سائنس پر آپ نے کئی کُتب بھی لکھی ہیں اور اسی حوالے سے مذموم مقاصد کے لئے اقبال کے خلاف کہ وہ سائنس کے نظریات نہیں جانتے اور خلاف تھے کا شیرازہ کر دیا اور تمام فاسد تعصبات اور منفی خیالات اُکھیڑ دیئے کہ اقبال نہ صرف سائنسی علوم پر دسترس رکھتے تھے بلکہ اس پر پوری شرح و بسیط سے اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔

آخر میں جعفر صمدانی ایڈووکیٹ صدر پاکستان عوامی سوسائیٹی کویت نے تمام شرکاء سامعین محققین، مقررین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عوامی سوسائیٹی کویت پاکستان اسلام عوام اور شعور کے ساتھ ہمیشہ راہ عمل پر کھڑی رہے گی اور کہا کہ اقبال پنجابی ہندی ۔ فارسی۔اُردو سنسکرت۔ عربی۔ انگریزی اور جرمن زبانوں پر عبور رکھنے والا اقبال کہتا ہے کہ زمین کے اندر رہنے والی اجناس میں حرارہ کم اور زمیں سے اوپر حرارہ زیادہ ہوتا ہے حشرات کے بعد درندے ان کے بعد بہام و انعام اور ان کے بعد پرندے اور پرندوں میں اُونچی اُڑان پر بلند تر پرواز شاہین کی عادات فطرت کے قریب تر اور بلندی کا اخلاق انسان کو عالمگیر بناتا ہے اور یہی منشاء مراد اسلام کی ہے جو حیات دائمی عطا کرتی ہے، آخر میں دعا کے ساتھ اختتام ہوا۔