Community News

On November 29, 2021, Mr. Hafiz Muhammad Shabbir, Director Pakistan Business Centre Kuwait visited Sialkot Chamber of Commerce & Industry for an interactive session with business community of Sialkot.


Wherein, Senior Vice President, Sialkot Chamber welcomed Mr. Muhmmad Shabir and his team. The Senior Vice President shared that Mr. Muhmmad Shabir has always rendered tremendous support in matters related to promotion of bilateral trade between Pakistan and Kuwait.


Mr. Hafiz Muhammad Shabbir shared that Kuwait has growing opportunities for Made in Sialkot products and their potential could be exploited by exchange of Trade Delegations, participating in Exhibitions and business Meetups between two brotherly countries.

Congratulations to the Mega winner of our promotion for Pakistan. Send money through Al Muzaini and get a chance to win cash prizes!

کویت:مشرق اور مغرب کے درمیان حسین سنگم کا نام علامہ اقبال ہے،پاکستان عوامی سوسائٹی کویت نے اپنی ریت اور روایت کو برقرار رکھتے ہوئے علامہ اقبال کے یوم پیدائش کی نسبت اور سلسلے میں ایک پروگرام یاد اقبال سے معنون منعقد کیا تاکہ دیار غیر میں فکر اقبال کو اجاگر کرتے ہوئے قلوب و اذہان کو سرشار کرتے ہوئے خودی کے طریق پہ مجاہد کی اذان بن کر چیتے کا جگر رکھتے ہوئے شاہین کی پرواز سے کربلا سے ہوتے ہوئے سوئے مدینہ ہوا جائے اور اپنے انفرادی اخلاق کو اللہ کے رنگ میں رنگتے ہوئے اس جوان نسل کو امہ کی اجتماعی لڑی میں پرو دیا جائے تاکہ وہ سماج انسانی فلاح و بہبود والا پھر میسر ا سکے۔

پروگرام میں پاکستان، انڈیا، ایران، ترکی اور کویت سے محققین و مقررین سے اکتساب ہونے کا موقع میسر آیا ،یاد اقبال کے پروگرام کو انتظامی حسن اور ترتیب وتزئین کے تقاضے جناب عطا الہی نے سرانجام دیئے۔ تلاوت۔ نعت کے بعد پاکستان و کویت کے ترانوں کے بعد استقبالیہ کلمات جناب انجنئیر آصف کمال صدر پاکستان عوامی سوسائٹی ترکی نے ادا کرتے ہوئے مقررین کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ہم بجا طور پہ فخر کرتے ہیں کہ ہم اقبال کےبدیس اور عہد سے متعلق ہیں۔

مجاہد چشتی نے وجد آفرین انداز میں۔۔۔۔لوح بھی تو قلم بھی تو۔۔۔ تیرا وجود الکتاب ۔۔۔۔۔ پڑھا اور سحر سماں باندھ دیا۔ اور سامعین جھومتے رہے۔

ترکی سے تعلق رکھنے والے ممتاز کالم نویس جناب یاسین شاہین صاحب نے کہا کہ اقبال کی ہمہ گیریت اور جامعیت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے بھی بڑھ کر انسانیت کا پیامبر ٹھرا ہے۔ اور کہا کہ اقبال مسلمانوں کو غلامی سے نکال کر حریت سے جرآت سے عظمت رفتہ سے بہرہ مند ہونے پہ مائل کرتا ہے۔۔ اور آپ ہم فکر اقبال کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔

ملک عابد نے پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیشہ ملی قدروں سے سرشار ہو کر معیاری پروگرام کرتے ہیں،میاں ساجد اقبال چیئرمین علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی نے اقبال کے فلسفہ خودی پہن گفتگو فرمائی اور اس روشنی میں کردار سازی پہ زور دیکھو حریت پہ منتج ہو۔

نامور محقق جناب قاضی شعیب نے اسرار خودی اور رموز بےخودی کی روشنی میں کہا کہ اقبال کیسے انسانی جبلت و عادات کو اعلی انفاس سے متصل کرتا ہو تعمیر کردار کی بات کرتا ہے۔ اوراعلی انسانی اوصاف سے متصف ہونے کی بات کرتا ہے۔

ایران سے تعلق رکھنے والے محقق و مقرر جناب پروفیسر ڈاکٹر حمید سدیری نے فکر اقبال کی مختلف جہتوں سے حوالے دیتے ہوئے اقبال لاہوری قلندر لاہوری کے ایران میں فلسفہ ما بعد از طبعیات پہ بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اقبال نے ایران میں ایک بہت بڑے پیمانے پہ اپنی اثر انگیزی پیدا کی ہے۔

بھارت سے جناب محترم وسیم سید نے بہت سیر حاصل گفت گو فرمائی۔ فکری احاطہ کرتے ہوئے کہا اقبال کے اشعار میں پُر مغز پیغام ہے۔

کراچی سے جناب ابصار احمد ( انچارج پی ٹی وی نغمات کراچی) نے اقبال اور قومیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا اقبال کی فکر قومیت، کسی جغرافیہ سے نہیں بلکہ ملت اسلامیہ سے حوالہ رکھتے ہیں اور بے شمار مقامات پر اسی فکر کو جلا بخشی۔

کویت سے تعلق رکھنے والے نامور صحافی جناب ترکی العنبائی نے بھی فکر اقبال پر گفت گو فرمائی۔

کویت کے نامور رپورٹر / صحافی جناب سالم الکندری نے علامہ اقبال کے ساتھ اپنا تعلق بیان فرمایا کہ ہم محمد اقبال سے اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی واقف ہیں پڑھتے ہیں اور اپنے من کو جلا بخشتے ہیں۔ اقبال کی فکر کی مختلف جہتوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اقبال کا کلام پُر سوز انداز میں اُم کلثوم نے گا کر اہل عرب کو شناسا کیا ہے۔

پاکستان سے نامور مقرر جناب ڈاکٹر عارف صدیقی صاحب نے اپنے خطبہ میں کلام اقبال کی اثر انگیزی پر بات کی کہ یہ آج بھی ہمیں راہ عمل بتاتا ہے۔

کلیدی خطبہ صدارت جناب پروفیسر اعجاز الحق صاحب صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی نے پیش کیا کہ میں پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہر سال بہترین اعلی معیار کے پروگرام کا انعقاد پاکستان عوامی سوسائٹی کویت کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ جیسے یہ دیار غیر میں وطن کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں اور رکھتے ہیں۔ اقبال اور سائنس پر آپ نے کئی کُتب بھی لکھی ہیں اور اسی حوالے سے مذموم مقاصد کے لئے اقبال کے خلاف کہ وہ سائنس کے نظریات نہیں جانتے اور خلاف تھے کا شیرازہ کر دیا اور تمام فاسد تعصبات اور منفی خیالات اُکھیڑ دیئے کہ اقبال نہ صرف سائنسی علوم پر دسترس رکھتے تھے بلکہ اس پر پوری شرح و بسیط سے اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔

آخر میں جعفر صمدانی ایڈووکیٹ صدر پاکستان عوامی سوسائیٹی کویت نے تمام شرکاء سامعین محققین، مقررین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عوامی سوسائیٹی کویت پاکستان اسلام عوام اور شعور کے ساتھ ہمیشہ راہ عمل پر کھڑی رہے گی اور کہا کہ اقبال پنجابی ہندی ۔ فارسی۔اُردو سنسکرت۔ عربی۔ انگریزی اور جرمن زبانوں پر عبور رکھنے والا اقبال کہتا ہے کہ زمین کے اندر رہنے والی اجناس میں حرارہ کم اور زمیں سے اوپر حرارہ زیادہ ہوتا ہے حشرات کے بعد درندے ان کے بعد بہام و انعام اور ان کے بعد پرندے اور پرندوں میں اُونچی اُڑان پر بلند تر پرواز شاہین کی عادات فطرت کے قریب تر اور بلندی کا اخلاق انسان کو عالمگیر بناتا ہے اور یہی منشاء مراد اسلام کی ہے جو حیات دائمی عطا کرتی ہے، آخر میں دعا کے ساتھ اختتام ہوا۔

ییوتھ ونگ اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت نے حسب روایت یوم اقبال بڑے جوش و جذبے سے منایا۔
اس بار پروگرام کا عنوان "پیام اقبال" رکھا گیا تھا جس کا مقصد اپنی نوجوان نسل کو اقبال کی فکر اور اقبال کے پیغام سے روشناس کرانا تھا۔
پروگرام کی کمپیئرنگ کے فرائض یوتھ ونگ کے سنئیر ممبر جناب نوید پاشا صاحب نے بہت خوبصورتی سے ادا کیے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جس کی سعادت عبداللہ یاسین نے حاصل کی۔
اس کے بعد جواد احمد نے اقبال کے نعتیہ کلام کے ذریعے حضور سرور کائنات ص کے حضور ہدیہ عقیدت پیش کیا۔
اس کے بعد صدر یوتھ ونگ اسلامک ایجوکیشن کمیٹی جناب صدف علی صدف نے خیر مقدمی کلمات کہے اور پروگرام میں شریک سامعین و حاضرین کو خوش آمدید کہا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس یوم اقبال کو منانے کے اغراض و مقاصد پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اقبال کی فکر اور اقبال کا پیغام ہمارے ہر نوجوان تک پہنچے تا کہ ہر نوجوان اقبال کے مطلوبہ نوجوان جیسا بننے کی کوشش کر سکے۔
اس کے بعد جناب نعمان اسلم گھمن صاحب نے اقبال کے کلام اور اقبال کی شخصیت بارے معلومات پر مشتمل ایک خوبصورت ڈاکومنٹری بعنوان "اقبال اور نوجوان" خود اپنی آواز میں پیش کی جسے سامعین نے بے حد سراہا۔
اس کے بعد چھوٹے چھوٹے طلبہ نے اقبال کی شخصیت بارے تقاریر کیں اور اقبال رح کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا، تقاریر میں حصہ لینے والے طلبہ بچوں میں عبدالحادی، محمد احمد نوید، محمد ابراہیم، طہہ رفعت، عبدالرحمن احمد اور محمد ثوبان شامل ہیں۔
یوتھ ونگ کے اپنے نوجوانوں نے بھی اقبال کے موضوع پر تقاریر کیں جن میں عثمان جاوید اور ذیشان علی قابل ذکر ہیں۔
یوتھ ونگ کے لیاقت علی بٹ نے نوجوانوں کے سامنے اقبال کی مشہور زمانہ نظم "
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے" پیش کی۔
اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کے نائب صدر اور مربی جناب مشتاق احمد صاحب نے بھی کلام اقبال پیش کیا۔
پروگرام میں کویت میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی دینی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھر پور شرکت کی۔
کویت پاکستان فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر اور نامور سماجی شخصیت جناب رانا اعجاز سہیل صاحب نے اقبال رح پر گفتگو کرتے ہوے اقبال کی شخصیت کے کچھ پہلو حاضرین کے سامنے رکھے، انہوں نے مزید کہا کہ یوتھ ونگ اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت نے حسب روایت بیداری شعور اور نوجوانوں میں اقبال شناسی کے سلسلے کو جاری رکھا ہوا ھے جو لائق صد تحسین ہے۔
معروف سماجی شخصیت اور ریڈیو کویت اردو سروس کے میزبان و انچارج جناب عبداللہ عباسی صاحب نے بھی پیام اقبال کے سلسلے میں یوتھ ونگ کے منتظمین کی کوششوں کو سراہا۔
پروگرام کا جامع خطاب سرپرست اعلی یوتھ ونگ اور صدر اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت " جناب جاوید اقبال صاحب" کا تھا جس کا موضوع تھا
"اقبال کا شاھین"
انہوں نے بڑے مدلل انداز میں سمجھایا کہ اقبال کو شاھین کیوں بہت پسند تھا اور وہ ایک مسلمان نوجوان میں شاہین جیسی خوبیاں کیوں دیکھنا چاہتے تھے۔
انہوں نے نوجوانوں کو یہ بھی نصیحت کی کہ اگر ایک اچھا، سچا اور بہترین مسلمان بننا ھے تو اقبال کی فکر کو سمجھنا اور اسے اپنانا ہو گا، کیونکہ اقبال کا فلسفہ اور اس کی فکر صرف اسلام اور عشق رسول ص ہے۔
پروگرام کا اختتام جنرل سیکرٹری اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت جناب اطہر مخدوم صاحب کے اختتامی کلمات اور دعا سے ہوا۔
آخر میں صدر یوتھ ونگ جناب صدف علی صدف نے تمام حاضرین اور عمائدین کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا۔پروگرام کی تمام تر کوریج اور لائیو ٹرانسمشن اور فنی معاونت اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کے میڈیا سیل کے انچارج محمد فھداورانکی ٹیم نے کی۔
رپورٹ: میڈیا سیل اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت

Webinar on "Payam-e-Iqbal " organized by Youth Wing Islamic Education Committee (National Poet Allam M.Iqbal *) Pak youth paid great tribute to Allama M. Iqbal as Muslam writer,Philosopher and Politician. The program was well attended by religious, political and social figures from the Pakistani community in Kuwait. Youth Wing Islamic Education Committee Kuwait traditionally celebrated national poet Iqbal Day with great enthusiasm. This time the program was titled "Payam-e-Iqbal" which was aimed at introducing Iqbal's thoughts and Iqbal's message to the younger generation. Mr. Naveed Pasha, Senior Member, Youth Wing presented the program beautifully. The program started with the recitation of the Holy Quran by Abdullah Yaseen, Jawad Ahmad offered devotion to Hazrat Sarwar Kainat SA through Iqbal's Natia Poetry, President of Youth Wing Islamic Education Committee Mr. Sadaf Ali Sadaf gave welcome words and welcomed the audience. He also highlighted the aims and objectives of celebrating Iqbal Day. He said that we are trying to get Iqbal's thoughts and Iqbal's message to our youth so that every youth can try to be like Iqbal's desired youth. A very well prepared documentary was presented by Mr. Noman Aslam Ghman Sahib, he presented this beautiful documentary titled "Iqbal and the Youth" in his own voice which contained information about Iqbal's speech and Iqbal's personality which was much appreciated by the audience.
the younger students gave speeches about Iqbal's personality and paid rich tribute to Allam M. Iqbal . Among the students who participated in the speeches were Abdul Hadi, Muhammad Ahmad Naveed, Muhammad Ibrahim, Taha Rifat, Abdul Rahman Ahmed and Muhammad Soban. Liaquat Ali Butt of Youth Wing recited Iqbal's famous poem in the program , tittles young Muslim, The senior youth wing members also gave speeches on the subject of Iqbal, most notably Usman Javed and Zeeshan Ali.


Mr. Mushtaq Ahmed, Vice President Islamic Education Committee also presented Kalam Iqbal

The program was well attended by religious, political and social figures from the Pakistani community in Kuwait. Mr. Rana Ijaz Sohail, President of Kuwait Pakistan Friendship Association and eminent social figure, while talking about Allama Iqbal, he laid out some aspects of Iqbal's personality in front of the audience, adding that Youth Wing Islamic Education Committee Kuwait has traditionally raised awareness And the trend of Iqbalism among the youth is continuing which is commendable.

Mr. Abdullah Abbasi, a well known social figure and host and in-charge of Radio Kuwait Urdu Service, also appreciated the efforts of the Youth Wing organizers regarding Payam Iqbal. The comprehensive address of the program was delivered by Mr. Javed Iqbal Sahib, chief patron Youth Wing and President of Islamic Education Committee Kuwait. "Iqbal-ka- Shaheen" He explained in a very logical way why Iqbal liked Shaheen very much and why he wanted to see Shaheen-like qualities in a young Muslim. He also advised the youth that if one wants to be a good, true and best Muslim, one has to understand and adopt Iqbal's thought, because Iqbal's philosophy and his thought is only Islam and love of the Prophet. The program ended with the closing words and prayers of General Secretary Islamic Education Committee Kuwait Mr. Athar Makhdoom. At the end, President Youth Wing Mr. Sadaf Ali Sadaf thanked all the attendees and elders once again. The entire coverage of the program and the live transmission and technical assistance was provided by the team of Muhammad Fahd, in-charge Media Cell of the Islamic Education Committee.
Report: Media Cell Islamic Education Committee Kuwait

*اگر پیارے نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمہیں خواب میں زیارت نصیب ھو جائے تو تمہارے جذبات کیا ھوں گے اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے استفسار فرمائیں کہ میری امت کے لوگوں سے تمہارا برتاؤ اور سلوک کیسا ھے تو تم کیا جواب دو گے؟*
*اس انتہائی ایمانی، روحانی مگر خود کو جھنجھوڑ دینے والے سوال پر مبنی کویت میں اپنی نوعیت کا منفرد اور پر وقار پروگرام*
*نبی کریم ، رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور ولادت باسعادت کی مناسبت سے کمیونٹی کی معروف شخصیت محمد عرفان عادل کی طرف سے پروقار تقریب اور ضیافت کا اہتمام*
ہمارے پیارے آقا نبی کریم رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے پاکستانی کمیونٹی کی معروف شخصیت محمد عرفان عادل نے ایک پر وقار تقریب اور ضیافت کا اہتمام کیا اس روحانی , ایمانی اور پروقار تقریب کے مہمان خصوصی سفیر اسلامی جمہوریہ پاکستان محترم سید سجاد حیدر تھے جبکہ کمیونٹی ویلفیئر اتاشی محترم فرخ امیر سیال نے خصوصی شرکت کی - مہمانان گرامی قدر میں حافظ محمد شبیر ، حاجی عبد الرشید ، رانا اعجاز حسین، مقبول احمد، قاری طلعت شریف ،رانا منیر احمد ، جاوید اقبال ، ڈاکٹر جہانزیب عثمان، محمد شریف، عبداللہ عباسی،شکیل مغل، چوھدری سلیم، محمد جمیل، خلیل احمد، طاہر بشیر، طارق اقبال، عاطف صدیقی، محمد یونس شاہد، فرخ کمال صدیقی، مقبول احمد ، سید جنید احمد، محمد عرفان شفیق اور دیگر مہمانان ذی وقار شامل تھے تقریب کا آغاز تلاوت قرآن حکیم سے ہوا جس کی سعادت قاری طلعت شریف نقشبندی نے حاصل کی جبکہ نقابت کے فرائض سہیل یوسف نے بحسن و خوبی انجام دیے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنے کی سعادت عبدالروف بھٹی اور محمد نواز نے حاصل کی، اس روحانی پروقار اور منفرد تقریب کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے میزبان محفل محمد عرفان عادل نے محبت رسول رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اس کے تقاضوں اور سیرت طیبہ کے مختلف گوشوں پر مدلل گفتگو کی انہوں نے سامعین کے سامنے ایک منفرد اور روح پرور سوال رکھا کہ اگر آپ کو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہو جائے تو آپ کے جذبات کیا ہوں گے اور اگر آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے استفسار فرمائیں کہ میری امت کے لوگوں کے ساتھ جو آپ کے ساتھ کسی بھی حوالے سے منسلک ہیں تمہارا ان کے ساتھ سلوک اور برتاؤ کیسا ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟
مقررین نے جن میں رانا اعجاز حسین، جاوید اقبال، حاجی عبد الرشید ، طلعت شریف نقشبندی ، حافظ محمد شبیر ، محمد عرفان عادل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشی محترم فرخ امیر سیال شامل تھے اس ایمانی اور روح پرور سوال کے جواب میں انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جس میں مقررین نے نم آنکھوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ھم زیارت حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے لئے لئے انتہائی خوش بختی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی اس تمنا کو دعا کی صورت میں پیش کرتے ھیں کہ اللہ رب العزت ہمیں یہ خوش نصیبی عطا فرمائے ھمارے دامن میں کوئی ایسا حسن عمل نہیں کہ ھم اس سوال کا جواب دے سکیں بس اتنا جانے ھیں کہ ھمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی کریم اور رحمت للعالمین ھیں- ھمیں اپنا اپنا محاسبہ کرتے ھوئے اس سوال کی تیاری کرنی ھے اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقاضوں کو پورا کرتے ھوئے سیرتِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا ھونا ھے اور ھمیں یہ دیکھنا ھے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کا کون کون سا پہلو ھے جس پر ھم روزمرہ زندگی میں عمل کرتے ھیں ہم نقوشِ سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہوکر ہی دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں۔
تقریب کے مہمان خصوصی سفیر اسلامی جمہوریہ پاکستان محترم سید سجاد حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ اسوہ کامل اور ھمارے لیے بہترین نمونہ ھے زندگی کے ہر گوشے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ہمیں میں عملی نمونہ ملتا ہے آپ نے ہر ہر شعبے میں اخلاق و کردار حسن سلوک، امانت و دیانت ، سچائی و امانتداری، جرات و بہادری ، صلہ رحمی اور رحم دلی کی اعلی ترین مثالیں قائم کیں انہوں نے کہا کہ سیرت طیبہ کی روشنی میں ہمیں اپنا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا ہے کہ ہم اپنے اپنے شعبے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کی تعلیمات پر کتنا عمل پیرا ہیں انہوں نے کہا دنیا و آخرت کی کامیابی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے اور یہی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اولین تقاضا ہے انہوں نے میزبان محفل محمد عرفان عادل کو انتہائی روحانی، منفرد، منظم اور ایمانی تقریب منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ تقریب کے میزبان محمد عرفان عادل نے نے سفیر پاکستان سید سجاد حیدر ،کمیونٹی ویلفیئر اتاشی فرخ امیر سیال ، تمام مہمانان ذی وقار اور میڈیا نمائندگان کا اس خوبصورت اور پر وقار تقریب میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اللہ کے حضور اس توفیق پر شکر ادا کیا آخر میں وطن عزیز پاکستان، کویت اور تمام امت مسلمہ کی سلامتی ، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور تمام مہمانوں کی تواضع انتہائی پرتکلف عشائیے سے کی گئی گی اس طرح یہ روحانی ، ایمانی اور پروقار تقریب انتہائی خوشگوار یادیں لے کر اپنے اختتام کو پہنچی۔
 
 

Kuwait Pakistan Blood Donor organized Blood donation drive on 15 October 2021 at Central Blood bank Jabriya, Kuwait

The Ambassador of Pakistan to Kuwait Syed Sajjad Haidar, Community welfare attaché Amir Sial and Mrs. Ambareen, attended the event as chief guest. Numbers of Pakistani, Kuwaiti, Indian, Egyptian, and Syrian donated their blood in this noble cause.

for full Albume click the link https://www.facebook.com/media/set/?vanity=PakistanisInKuwait&set=a.4393386114093003

the event gone live on pik facebook page

Go to top