بیجنگ: چین نے منگل کو کامیابی کے ساتھ ایک نیا راکٹ اور پروٹو ٹائپ اسپیس کرافٹ لانچ کیا ہے۔

ڈان اخبار مین شائع فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس مشن کے تحت چین مستقبل میں خلاء میں ایک اسپیس اسٹیشن بنائے گا، بعدازاں خلاباز چاند پر بھیجے گا۔

چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے اپنے بیان میں بتایا کہ لانگ مارچ 5 بی نامی راکٹ ہینان کے جنوبی جزیرے میں وین چینگ لانچ سائٹ سے چھوڑا گیا اور 8 منٹ میں کامیابی کے ساتھ پروٹو ٹائپ اسپیس شپ اس سے الگ ہوکر اپنے ہدف کردہ مدار میں داخل ہوگیا۔

ایجنسی نے مزید بتایا کہ کارگو ریٹرن کیپسول کا ایک ٹیسٹ ورجن بھی کامیابی سے راکٹ سے علیحدہ ہوگیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اسپیس شپ ایک دن خلابازوں کو خلا میں داخل کرے گا اور چین کا یہ منصوبہ 2022 تک مکمل کرنے کا ارادہ ہے، جس کے بعد اس اسپیس شپ کا اگلا ہدف چاند ہے۔

مزید پڑھیں: چین سمندر سے خلا میں راکٹ بھیجنے والا تیسرا ملک بن گیا

اس اسپیس شپ میں 6 افراد کی ٹیم کی گنجائش موجود ہے۔

چین مینڈ اسپیس ایجنسی کے جی کِمنگ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ٹیسٹ فلائٹس مکمل ہونے کے بعد اس اسپیس شپ اور کیپسول کی واپسی جمعہ تک متوقع ہے۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

 

یاد رہے کہ امریکا وہ واحد ملک ہے جس نے کامیابی کے ساتھ انسانوں کو چاند پر بھیجا ہے۔

مگر چین نے ایک بڑی مہم شروع کی ہے اور اس کے ارادے چاند سے دور تک کے ہیں، چین کی طرف سے خلاء میں بھیجا جانے والا مارچ 5 بی 54 میٹر لمبا اور 849 ٹن وزنی ہے۔

البتہ بیجنگ بھی اس حوالے سے کافی سرگرم ہے اور خلا میں خلابازوں کو بھیجنے کے ساتھ مدار میں سیٹالائٹس بھی بھیجے جاچکے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال مارچ اور اپریل میں چین کی جانب سے خلا میں راکٹ بھیجنے کے دو منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین نے 2020 میں اپنے مریخ مشن کو آگے بڑھانے کے لیے دنیا کا سب سے طاقت ور راکٹ لانچ کیا تھا۔

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی پر دکھائی گئی براہ راست نشریات میں شی جیان 20 ٹیسٹ سیٹلائٹ پے لوڈ پر مشتمل بھاری طویل رینج والے 5 راکٹ کو جنوبی جزیرے ہینان میں واقع لانچ سائٹ سے رات 8 بج کر 45 منٹ پر خلا میں بھیجا گیا تھا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق ’2000 سیکنڈز کے بعد شیجیان 20 سیٹلائٹ کو اپنے پہلے سے طے شدہ مدار میں بھیجا گیا‘۔

رپورٹ کے مطابق ’راکٹ لانچ مستقبل کے خلائی مشنوں سے متعلق کلیدی ٹیکنالوجیز کی جانچ کرے گا‘۔

جولائی 2017 میں اس راکٹ کی لانچنگ کی ناکام کوشش کے بعد گزشتہ سال کی کامیابی کی وجہ سے چین کا خلائی پروگرام واپس اپنی سمت میں لوٹ آیا تھا۔

واضح رہے کہ بیجنگ نے اپنے حریف امریکا سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنے خلائی پروگرام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور خود کو ایک بڑی عالمی طاقت ظاہر کرنے کی تصدیق کی تھی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ چین تیانگانگ اسپیس اسٹیشن کو جوڑنے کا کام رواں سال شروع کرے گا اور اس کی تکمیل 2022 تک مکمل ہوگی۔

مدار میں بنائی جانے والی اس خلائی لیبارٹری کے تین ماڈیول ہوں گے جہاں رہائش اور سائنسی تجربے کرنے کی سہولیات بھی موجود ہوگی۔

چین کا منصوبہ ہے کہ وہ آئندہ ایک دہائی کے دوران انسان کو چاند پر بھیجے گا اور چین چاند پر بیس بنانے کا منصوبہ بھی رکھتا ہے۔

چین 2019 میں دنیا کا وہ پہلا ملک بھی بنا تھا جو چاند کے تاریک حصے پر پہنچا تھا، جہاں اس نے ایک مصنوعی چاند نصب کیا تھا جو اب وہاں سے 450 میٹر دور چلا گیا ہے۔

چین کا اگلا ہدف مریخ پر تحقیق کرنا ہے اور رواں سال اس کے آغاز کا امکان ہے۔

چین کے مطابق انہوں نے پہلے ہی زمین کی تحقیق کے متعلق کچھ منصوبوں کی تحقیق کے لیے امریکا کے ساتھ تعاون قائم کر رکھا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکا اور چین میں خلائی تحقیق اور انسانوں کے خلا میں جاکر تحقیق کرنے کے حوالے سے بہت بڑا فرق ہے، امریکا ماضی، حال اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے سب سے آگے ہے۔