دنیا کی سب سے بڑی سوشل ویب سائٹ فیس بک نے بالآخر مواد کی نگرانی کے لیے خود مختار باڈی کی تشکیل دیتے ہوئے ’سپریم کورٹ‘ کی طرز کے ادارے کے ارکان کا اعلان کردیا۔

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے نومبر 2018 میں اعلان کیا تھا کہ ویب سائٹ مواد کی نگرانی کے حوالے سے ایک آزاد باڈی کا قیام عمل میں لائے گی۔

مارک زکر برگ نے اعلان کیا تھا کہ ممکنہ طور پر آزاد باڈی میں دنیا بھر سے انسانی حقوق، ڈیجیٹل رائٹس کے ارکان، سیاستدان، قانون دان، ادیب اور تاریخ دانوں کو شامل کیا جائے گا اور اس باڈی کے ارکان کی تعداد 40 تک رکھی جائے گی۔

اور اب فیس بک نے 18 ماہ بعد اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے 40 رکنی باڈی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے اس کے ابتدائی 20 ارکان کے ناموں کا اعلان بھی کردیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فیس بک کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر بیرنٹ ہارس نے ادارے کی جانب سے باڈی کا اعلان کرتے ہوئے اس کے 20 ارکان کے ناموں کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ باڈی ارکان کی تعداد بڑھا کر 40 تک کردی جائے گی۔

فیس بک کی جانب سے مواد کی نگرانی کے لیے تشکیل دی گئی باڈی کو سوشل ویب سائٹ کی ’سپریم کورٹ‘ کہا جا رہا ہے اور یہ باڈی عدالت کی طرح ہی کام کرے گی اور اس باڈی کے فیصلوں کو تسلیم کرنا ویب سائٹ کے لیے لازم ہوگا۔

یمن کی نوبل انعام کارکن توکل کرمانی بھی جیوری کا حصہ ہیں—فوٹو: وویمن چیئر
یمن کی نوبل انعام کارکن توکل کرمانی بھی جیوری کا حصہ ہیں—فوٹو: وویمن چیئر

 

فیس بک کی ’سپریم کورٹ‘ قوائد و ضوابط میں رہتے ہوئے آزادانہ طور پر ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مواد کی نگرانی کرے گی اور یہ فیصلہ کرے گی کہ کس طرح کے مواد کو ویب سائٹ پر شائع کیا جائے اور کس طرح کے مواد کو روکا جائے۔

’سپریم کورٹ‘ جیسی یہ باڈی فیس بک سمیت انسٹاگرام پر مواد کو شائع کرنے کے حوالے سے بھی فیصلے کرے گی اور یہ باڈی فیس بک کو ایسی سفارشات اور فہرست فراہم کرے گی کہ کس طرح کا مواد روکا جا سکتا ہے اور کس طرح کے مواد کو روکا نہیں جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک کا نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

یہ باڈی عالمی قوانین، انسانی حقوق اور ریاستی قوانین سمیت معلومات تک رسائی، اخلاقیات اور دیگر اہم مسائل کے تناظر میں یہ فیصلہ کرے گی کس طرح کے مواد کو فیس بک یا انسٹاگرام پر شائع نہیں کیا جا سکتا اور کس طرح کے مواد کو روکا نہیں جا سکتا۔

فیس بک کی ’سپریم کورٹ‘ کے ابتدائی 20 ارکان میں یمن کی انسانی حقوق کی کارکن، صحافی اور نوبل انعام یافتہ خاتون توکل کرمانی، یورپی ملک ڈینمارک کی سابق وزیر اعظم ہیلے تھارننگ سکمدت، سابق امریکی فیڈرل کورٹ کے جج مائیکل مکنول، برطانوی اخبار دی گارجین کے سابق ایڈیٹر ایلن رسبریجر اور کولمبیا کی ماہر تعلیم کیٹالینا بوتیرو سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے 20 سیاستدان، ماہر قانون، ماہر تعلیم، ادیب، صحافی و انسانی حقوق کے علمبردار شامل ہیں۔

فیس بک کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر بیرنٹ ہارس نے باڈی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ باڈی کے ابتدائی 20 ارکان کی آن لائن تربیت کا آغاز کردیا گیا اور جلد ہی جیوری اپنا کام شروع کردے گی۔

ڈینمارک کی سابق وزیر اعظم بھی جیوری کا حصہ ہیں—فوٹو: اے ایف پی
ڈینمارک کی سابق وزیر اعظم بھی جیوری کا حصہ ہیں—فوٹو: اے ایف پی

 

خیال کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ باڈی عام افراد کی جانب سے فیس بک اور انسٹاگرام پر شائع کیے جانے والے مواد سے متعلق غور کرے گی اور یہ باڈی یہ دیکھے گی کہ عام صارفین کی جانب سے کس طرح کے مواد کو شیئر کیا جا سکتا ہے اور کس طرح کے مواد کو روکا جاسکتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں یہ باڈی حکومتوں، ریاستوں و اداروں کے مواد پر نظر ثانی کرے گی اور پھر مذکورہ باڈی فیس بک کو اپنی سفارشات پیش کرے گی، جن پر عمل کرنا فیس بک پر لازم ہوگا۔

مزید پڑھیں: فیس بک کا سفید فام نسل پرستی کے خلاف نئی پالیسی کا اعلان

’سپریم کورٹ‘ طرز کی یہ باڈی اپنی سفارشات کو بھی عام کرنے کی پابند ہوگی اور یہ باڈی اپنی رپورٹس میں عوام کو یہ بھی بتائے گی کہ فیس بک نے باڈی کی سفارشات پر کتنا عمل کیا۔

فیس بک انتظامیہ کو مذکورہ باڈی ارکان کو برخاست کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، چوں کہ اس باڈی ارکان کو ایک ٹرسٹ فنڈ کے تحت قائم کیے گئے ادارے کے تحت بھرتی کیا گیا ہے اور یہ باڈی مکمل طور پر خود مختار ہوگی۔

مذکورہ باڈی کے ارکان کے مطابق وہ انٹرنیٹ پولیس کا کام نہیں کریں گے بلکہ وہ فیس بک و انسٹاگرام پر مواد کی بہتری کے لیے کام کریں گے اور وہ اس ضمن میں معلومات تک رسائی اور درست معلومات کے پھیلاؤ سمیت انسانی حقوق کا بھی خیال رکھیں گے۔

یہ اپنی نوعیت کی منفرد اور پہلی باڈی ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر خود مختار طور پر کام کرے گی، عام طور پر فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور اسنیپ چیٹ جیسی ایپلی کیشنز و ویب سائٹ کی محدود ٹیم مواد کی نگرانی کرنے سمیت مواد کو شائع کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ کرتی ہے اور ایسے عمل پر ان ویب سائٹس کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

مارک زکربرگ نے نومبر 2018 میں جیوری بنانے کا اعلان کیا تھا—فوٹو: اے ایف پی
مارک زکربرگ نے نومبر 2018 میں جیوری بنانے کا اعلان کیا تھا—فوٹو: اے ایف پی