Community News

 

المشارکہ فی جائیزہ الکویت الدولیہ لحفظ القران الکریم میں شرکت کیلئے (13سالہ بچہ (حافظ حذیفہ اورانکے والد محترم پاکستان سے کویت پہنچ گئے، کویت پہنچے پر حافظ محمدشبیر ڈائریکٹر پاکستان بزنس سنٹر کویت ، عابد ملک سمیت دیگرافراد نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ یاد رہے یہ مشارکۃ وزارت اوقاف و شؤن الاسلامیہ الکویت کی زیرنگرانی منعقد ہورہاے ہے، ہم سب حافظ حذیفہ کی کامیابی کیلئے دًعاگو ہیں۔

 

 

گذشتہ دنوں ملٹی نیشنل سرمایہ کاری کمپنیوں کے نمائندے صلاح ابوالزید اورسالم الکندری کی سفارت خانہ پاکستان میں عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر سے ملاقات ۔ اس سرمایہ کاری میٹنگ کا اہتمام پاکستان بزنس سنٹر کویت کے ڈائریکٹر حافظ محمد شبیر نے کیا تھا۔ اس موقع پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالہ سے تبادلہ خیال کیاگیا۔ عزت مآب سفیر پاکستان غلام دستگیر کے سرمایہ کاری کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ مختلف کمپنیوں کے کنسلٹنٹ یعنی نمائندے ہیں اور انکی طرف سے سرمایہ کاری لامحدود ہو گی۔کویتی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایا کاری کے متعلق کہا کہ اگر انہیں سرمایہ کاری کے پلان کے متعلق آگاہ کردیا جائے وہ انہی دنوں بھی پاکستان جانے کیلئے تیار ہیں۔کویتی سرمایا کاروں کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے حوالہ سے ایک مناسب اور محفوظ ملک کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو بھی پراجیکٹ شروع کریں اسکی سیکورٹی کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہوگی جس طرح انٹرنیشنل پراجیکٹس کی ذمہ داری حکومت پاکستان پہلے اٹھاتی ہے۔ کویتی سرمایہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ سوورین گارنٹی کیلئے پاکستان کے وزیر خزانہ ہی ہمارے ساتھ اپنا معاہدہ کریں گے تاکہ کسی بھی صورت حال مثلا انتخابات ہڑتالوں وغیرہ کی صورت میں ان کا سرمایہ منافع محفوظ رہے۔ اگلا پوائنٹ ان کا یہ تھا کہ پاکستان کے بین الاقوامی سطح کے نہیں بلکہ ہمیں پاکستان میں عالمی سطح پر ریپوٹڈ بینک کی ضرورت ہے یا نیشنل بینک کویت یا کویت فنانس بینک کی وہاں برانچز ہو جن کے ذریعے ہم اپنے سرمائے منافع وغیرہ کا لین دین کرسکیں۔انٹرنل بینکنگ فسیلٹی کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کے جو لوکل بینک ان سے لین دین کر سکتے ہیں قرضے وغیرہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہر پروجیکٹ کی فیزیبلٹی حکومت پاکستان تیار کر کے دے ہم اس فیزیبلٹی کے مطابق سرمایہ کاری کی کوٹیشن دیں گے جس کی منظوری کے بعد ہمارا ایک وفد پاکستان کا دورہ کرے گا ون ٹو ون ملاقاتوں کے بعد کنٹریکٹ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ ایم او یو کی صورت میں دستخط کرے گا۔ ایم او یو دستخط کرنے کے بعد ہم فیزیبلٹی سٹڈی کے مطابق اپنا کام آگے بڑھائیں گے اور منصوبہ کے مطابق سرمایہ کاری کریں گے،اس سلسلہ میں ہمیں ہر قسم کی سہولت چاہیے اورہم اپنے طریقے سے کام کریں گے،حافظ محمد شبیر کے مطابق اس موقعہ پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہمارے پاس فیزیبلٹی اسٹڈی نہ ہو تو اس طرز پر کام شروع کر دیں جیسا کہ چین والوں کہ ہم نے جگہ دی اور بتایا کہ ہمیں بجلی گھر چاہئے۔سولر پلانٹ چاہیے،فائیو اسٹار ہوٹل وغیرہ چاہیے جیساکہ سی پیک سے متعلق وہ کر رہے ہیں تو وہ خود ہی فیزیبلٹی رپورٹ تیار کرتے ہیں جس پر انہوں نے کہاکہ ان کے پاس ایسی ٹیمیں موجود ہیں جو بین الااقوامی معیار کے پروجیکٹس کر چکی ہیں و ہ فیزیبلٹی تیار کر سکتی ہیں۔ ان کو مٹیریل لے جانے کیلئے بھی فیسلٹی چاہیے ون ونڈو آپریشن چاہیے بعد میں انویسٹمنٹ ٹرانسفر کرنے کیلئے بھی فیسلٹی چاہیے بینکنگ فیسلٹی چاہیے گورنمنٹ ٹو پرائیویٹ سیکٹر میں بھی اگر کوئی پروجیکٹ کرنا چاہیں تو گورنمنٹ ہی ان کو سووران وارنٹی دے گی کہ ان کا کوئی معاملہ نقصان کی طرف نہ جائے۔ ہمیں ٹرانسپورٹ رہنے سہنے کیلئے ایسا ماحول دیا جائے تاکہ ان کے لوگ آسانی سے رہ سکیں ان کے لئے کوئی مسئلہ نہ ہو۔ وہ بارٹر ڈیل کیلئے بھی تیار ہیں یہ دنیا میں ایک نظام چلتا ہے جس کے مطابق وہ کوئی سڑک کارخانہ وغیرہ بناتے ہیں دس پندرہ سال کی طے شدہ مدت تک ٹال ٹیکس وغیرہ وصول کرتے ہیں جس کے بعد وہ ہینڈ اوور کر دیتے ہیں۔ سیکورٹی،لاء اینڈ آرڈر میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے،یہ سب حکومت کی ذمہ داری ہوگی،ہمیں اپنا منافع اپنے ملک لانے یا بینکوں میں ٹرا نسفر کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیئے،یہ سب ایگریمنٹ میں لکھا ہو گا۔ عزت مآب سفیر پاکستان نے سرمایہ کاری کی حد کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں روڈ میپ دیں،ان کے پاس اربوں ڈالر کے اثاثے ہیں۔ ان کے لیگل پینل نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے،ہمیں بتائیں کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے،ڈیم بنانا،فائیواسٹار ہوٹل بنانا ہے،ائیرپورٹ تعمیر کرنا،سی پیک میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار ہیں،عزت مآب سفیر پاکستان نے کہا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری بورڈ کو سفارشات بھیجیں گے،حافظ محمد شبیرڈائریکٹر پاکستان بزنس سنٹر کویت و کوآرڈینیٹر پاکستان ٹوورازم برائے کویت نے کہا کہ وہ سرمایہ کاروں کا پینل عزت مآب سفیر پاکستان کے پاس لے کر گئے تھے جس کا انہوں نے پرتپاک خیر مقدم کیا،اور ان کی باتیں بڑے غور سے سنیں اور ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائی،اگلے ہفتہ وہ ایک اور وفد ٹورازم کے حوالہ سے بھی لے کر سفیر پاکستان غلام دستگیر کے پاس جائیں اور ہم اس طرح پاکستان لے لئے وہ جو کچھ کر سکتے ہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار فضا پیدا کرنا،ایسا محفوظ ماحول پیدا کرنا ہوگا کہ سرمایہ کار جوق در جوق پاکستان کا رخ کریں،پروجیکٹس کی فیزیبلٹی خود تیار کریں،اس بات کا انتظار نہ کریں کہ سرمایہ کار ادارے خود یہ کام کریں گے،انہوں نے کہا کہ کویت میں پاکستان کے سابق سفیر اسلم خان کے زمانے میں بھی ہم نے کویت کے مقامی ہوٹل کراؤن پلازہ میں سرمایہ کاروں کا ایک پینل کی میٹنگ کروائی تھی جو 15،ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے تیارتھے لیکن مناسب موقع پر فیزیبلٹی رپورٹ نہ ہونے کے باعث وہ موقع ہم گنوا بیٹھے، حافظ محمدشبیر نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اس موقعہ کو کسی بھی صورت ضائع نہ کیا جائے۔

KUWAIT: A high-level trade and investment delegation has arrived in Kuwait for a Pak-Kuwait investment conference being held at the Kuwait chamber of commerce and industry on Monday 5-Mar-2018.

The delegation headed by Board of Investment (BoI) chairman Naeem Zamindar is visiting Kuwait on an initiative taken by Prime Minister Shahid Khaqan Abbasi, according to a BoI statement.

The BoI chairman held a number of bilateral meetings with the government and private sector officials on Sunday and elaborated the investment-friendly policies and lucrative incentives being offered by Pakistan to the foreign investors.

click the link to watch full Album: https://www.facebook.com/pg/PakistanisInKuwait/photos/?tab=album&album_id=1653774881387487

 

 

 

Click Here to see full Album

 

کویت (کاشف علی) کویت کے علاقے سالمیہ میں الطاہر ہاؤس پہ آج ایک مجلس بعنوان زینب ہم شرمندہ ہیں زیرِاہتمام منہاج القرآن انٹرنیشنل کویت منعقد ہوئی.
قرآن خوانی کے بعد نقیبِ محفل جناب شاہد حمید سندھو صاحب نے شاندار ابتدائیہ پیش فرمایا. باقاعدہ آغاز حافظ نثار احمد صاحب نے تلاوت کلام پاک سے کیا. جناب امتیاز حسین، صوفی تنویر احمد اور محمد رفیق صاحب نے حمد و نعت اور حصولِ انصاف کے لئے آقائے دوجہاں سرور کون و مکاں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور عاجزانہ التجائیہ دعائیہ کلام پیش فرمایا. مقررین میں جناب نصیر احمد بٹ، چوہدری محمد ارشد تبسم اور صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل کویت جناب حاجی عبدالرشید صاحب نے موجودہ کرپٹ سسٹم کو معاشرے میں بگڑتی قدروں کا ذمہ دار ٹھہرایا اور فرمایا کہ پاکستان کی خاموش اکثریت اس کرپٹ سسٹم کو جنم دیتی ہے. آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر زینب کو اپنی بیٹی سمجھا جائے. بے حسی، مایوسی اور نام نہاد اشرافیہ کے چنگل سے نکل کر جرات کے ساتھ اس بوسیدہ سسٹم اور کرپٹ مافیہ کو زمین بوس کرنے کے لیے پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی آواز پہ لبیک کہا جائے اور عملی طور پر انکا ساتھ دے کر پرامن طریقے سے موجودہ نظام کو بدلا جائے اور باکردار، تعلیم یافتہ قیادت کو حکمرانی دے کر معاشرے کی اصلاح کی جائے ورنہ ہر آنے والا دن گہرائیوں کی نشاندہی کر رہا ہے. آئے روز کبھی زینب، کبھی اشراق، کبھی ساجدہ کبھی ماریہ وحشی درندوں کی بھینٹ چڑتی رہیں گی. شہر قصور میں سال 2015 میں 274 بچوں کا ریپ، 2016 میں 11 معصوم کلیوں کا ریپ اور 2018 کے پہلے عشرہ میں زینب (قصور) اشراق(پتوکی) ساجدہ (بھلوال) انسانیت سوز واقعات کی نذر ہوئے. پنجاب بھر میں سال 2016 میں 2781 اور سال 2017 میں 2813 ریپ کیس رجسٹرڈ ہوئے اور پنجاب بھر میں ہر روز 11 معصوم کلیاں ریپ کے بعد قتل ہوتی ہیں. ان کی ذمہ دار حکومت وقت، انتظامیہ کے ساتھ ساتھ خاموش تماشائی قوم بھی ہے.
نازل کر اب عیسی کو
اب بھیج خدایا مہدی کو
اب دیکھ دجال آزاد ہوئے
اور پھولوں کے کیا حال ہوئے

 

کویت (نمائندہ خصوصی) کویت پاکستان فرینڈز شپ ایسوسی ایشن اور انکے سپانسر پر مشتمل ایک وفد جس میں رانا اعجاز حسین ایڈووکیٹ صدر کویت پاکستان فرینڈزشپ ایسوسی ایشن ، محمدعارف بٹ صدر پاکستان بزنس کونسل کویت، حافظ محمدشبیر ڈائریکٹر پاکستان بزنس سنٹر کویت،اسامہ شاہد، اورمعروف تاجر پیرامجد حسین بھی شامل تھے نے گورنر ہاؤس الفروانیہ (کویت) کا خیرسگالی دورہ کیا،اور عزت مآب الشیخ فیصل الحمود المالک الصباح سے خصوصی ملاقات کی ، تنظیم کویت پاکستان فرینڈزشپ ایسوسی ایشن کی طرف سے عزت مآب الشیخ فیصل الحمود المالک الصباح گورنر فروانیہ کی خدمات میں تنظیم نے ہالہ فبرایئر (کویتی نیشنل ڈے) کی مناسبت سے اپنے سالانہ پروگرام میں شرکت کی دعوت بھی دی جو انہوں خوشی سے قبول کی اور اپنی آمد کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اس کے علاوہ دیگر وفد میں عبدالشکور ابی حسن بیوروچیف نوائے وقت و دنیا ٹی وی ، معروف کاروباری شخصیت محفوظ حسین بھلو نرگانہ، حامد شبیربزنس ڈویلپمنٹ ایڈوائزر الحافظ گروپ، عاطف صدیقی چیف ایگزیکٹیو پاکستانیز ان کویت وسافٹ ویئر ڈویلپمنٹ منیجر الحافظ گروپ،بزنس ڈویلپمنٹ منیجر الحافظ گروپ عادل پراچہ، شریف حدیثوی دھرتی نیوز و فوٹوگرافر نوائے وقت،محمداحسان پروڈکشن منیجر الحافظ گروپ و فوٹوگرافر سماد نیوز شامل تھے۔ رانا اعجاز حسین ایڈووکیٹ صدر (کویت پاکستان فرینڈز شپ ایسوسی ایشن) نے پاکستانی ویزوں پر دیرینہ پابندی کے صد آزما امتحان پر اظہار خیال کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست بھی کی۔ جس پر جناب گورنر نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایااور واضح کیا کہ گورنر ہاؤس فروانیہ کے دروازے پاکستانی کمیونٹی کیلئے کھلے ہیں ،میں پاکستانیوں کے ساتھ اکثر ملتا رہتا ہوں جو کہ میرا ایک اچھا تجربہ رہا ہے پاکستان اور کویت کے تعلقات بہت مضبوط ہیں یہ تعلقات تین جہتوں میں منقسم ہیں ، گورنمنٹ اداروں کے گورنمنٹ اداروں کے ساتھ، حکمرانوں کے حکمرانوں کے ساتھ اور تنظیمات کے آپس میں تعلقات تعمیری ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تین چیزوں کی وجہ سے معروف ہے ، دین اسلام پر ثابت قدمی، عمل کرنے کی صلاحیت، پاکستان اور پاکستانی لوگوں کی خوبصورتی اور سب سے بڑی بات پاکستانی ایک بہترین مہمان نواز ہیں ، اس موقع پر حافظ محمدشبیر نے گورنر فروانیہ کویت الشیخ فیصل الحمود المالک الصباح کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی پیش کی اورپاکستان کے سیاحتی علاقوں کی طرف بھی انکی توجہ مبذول کروائی۔ حافظ محمدشبیر ڈائریکٹر پاکستان بزنس سنٹر کویت و کوآرڈینیٹر پاکستان ٹوورازم برائے کویت کی دعوت قبول کرتے ہوئے جناب گورنر الشیخ فیصل الحمود المالک الصباح نے کہا کہ ہم اپنے پورے وفد کے ساتھ پاکستان کا دورہ کریں گے۔ محمدعارف بٹ صدر پاکستان بزنس کونسل کویت نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات پر روشنی ڈالی ، پیر امجد حسین نے کویتی اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کے باہمی روابط بڑھانے کیلئے ایک مشترکہ پروگرام مرتب کرنے کا کہا جس کی محمدعارف بٹ صدر پاکستان بزنس کونسل نے بھی بھرپور حمایت کی جس پرعزت مآب الشیخ فیصل الحمود المالک الصباح نے خوش آئندہ قرار دیا اور آئندہ ملاقات میں اس پر مزید بات کرنے کا کہاتاکہ پاکستانی اور کویتی کمیونٹی کے روابط کو مزید بڑھانے کیلئے حکمت عملی تیار کی جائے۔ جبکہ اسامہ شاہد نے کویت اور پاکستان کے تعلقات پر بات چیت کی۔ انکے علاوہ شفیع خان چیئرمین منیجمنٹ سلوشن نیٹ ورک و چیئرمین پیپل انٹرنیشنل آرگنائزیشن نے کویت میں اپنے قیام کے پچاس سال کی تکمیل پر مسرت کا اظہار کیا۔ آخر میں گورنر الفروانیہ الشیخ فیصل الحمود المالک الصباح نے خوبصورت تحائف کیلئے بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں اس منفرد تحفہ کو وصول کر کے خوشی محسوس کررہا ہوں ، ملاقات کے اختتام پر رانا اعجاز حسین ایڈووکیٹ نے وفد کے ممبران سے فردا فردا تعارف بھی کروایا اور ممبران کو قرآن پاک کا خصوصی تحفہ بھی پیش کیا۔ آخر میں حافظ محمدشبیر ڈائریکٹر پاکستان بزنس سنٹر کویت و کوآرڈینیٹر ٹوورازم پاکستان برائے کویت نے رانا اعجاز حسین ایڈووکیٹ صدر کویت پاکستان فرینڈز شپ ایسوسی ایشن کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم انکے مشکور ہیں جنہوں نے ایک مخلص پاکستانی ہونے کے ناطے جناب گورنر سے پاکستانی کمیونٹی کویت کے مسائل کو اجاگر کیا ، کویت اورپاکستان کمیونٹی کے روابط بڑھانے کیلئے انتہائی اہم امور پر بات چیت کی.

 

Click the Link to view full Album: https://www.facebook.com/pg/PakistanisInKuwait/photos/?tab=album&album_id=1601697969928512

 

 

login with social account

Events Gallery

Currency Rate

/images/banners/muzainirate.jpg

 

As of Wed, 20 Jun 2018 10:13:23 GMT

1000 PKR = 2.578 KWD
1 KWD = 387.913 PKR

Al Muzaini Exchange Company

Go to top